مر گیا بھائی میرا، ہائے! قمر جھک گئے | غمخوارانِ عباس | علی زیا رضوی | نوحہ لائبریری

کرتے تھے سرورؑ بُکا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا، ہائے کمر جھک گئی

 

مر گئے ہم جیتے جی، چھوٹ گئے ہم سے اخی
ہو گئے بازو جدا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا، ہائے کمر جھک گئی
کرتے تھے سرورؑ بُکا…

 

قوتِ بازو تھا وہ، قلب کی طاقت تھا وہ
ہو گئے ہم بے نَوا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا، ہائے کمر جھک گئی
کرتے تھے سرورؑ…

 

تھام لو بازو پسر، لے چلو سوئے فرات
مر گئے تیرے چچا، ہائے کمر جھک گئی
کرتے تھے سرورؑ…
مر گیا بھائی میرا…

 

لے چلو اکبرؑ وہاں، بھائی ہے میرا جہاں
جلد چلو، مَیں لَقا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا…

 

در پہ کھڑی بے قرار، کرتی ہے وہ انتظار
اُس سے کہوں گا میں کیا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا…

 

لے کے چچا کا علَم، نوحہ یہ پڑھتے ہوئے
جاؤ سوئے خَیمہ گاہ، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا…
کرتے تھے سرورؑ…

 

پیاس سے سب ہیں نڈھال، پانی کا ہوگا سوال
کہنا وہ سب بہہ گیا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا، ہائے کمر جھک گئی

 

ایسا انیسؔ اب کہاں پائے گا سِبطِ نبیؐ
جیسا کہ عباسؑ تھا، ہائے کمر جھک گئی
مر گیا بھائی میرا، ہائے کمر جھک گئی
کرتے تھے سرورؑ…

رابطے میں رہیں

استاد سید علی زیا رضوی سے رابطہ کریں

Title
.